زیر و زبر

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - الٹ پلٹ، درہم برہم، تہ و بالا، تلپٹ، تباہ۔ "ان میں نئی زندگی کی واضح اور توانا آوازیں گونجنے لگیں اور خواب خرگوش کا طلسم زیر و زبر ہو گیا۔"      ( ١٩٨٦ء، نگار، کراچی، ستمبر، ١٨ ) ١ - کسر و فتحہ، حروف کے اعراب۔ "یعنی زیر و زبر کی غلطی حافظوں سے بھی ہو ہی جایا کرتی ہے۔"      ( ١٩٣٩ء، مطالعہ حافظ، ٨٧ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'زیر' کے ساتھ 'و' بطور حرف عطف لگا کر فارسی اسم 'زبر' لگانے سے مرکب عطفی 'زیر و زبر' بنا۔ اردو میں بطور اسم اور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٦٣٥ء کو "سب رس" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - الٹ پلٹ، درہم برہم، تہ و بالا، تلپٹ، تباہ۔ "ان میں نئی زندگی کی واضح اور توانا آوازیں گونجنے لگیں اور خواب خرگوش کا طلسم زیر و زبر ہو گیا۔"      ( ١٩٨٦ء، نگار، کراچی، ستمبر، ١٨ ) ١ - کسر و فتحہ، حروف کے اعراب۔ "یعنی زیر و زبر کی غلطی حافظوں سے بھی ہو ہی جایا کرتی ہے۔"      ( ١٩٣٩ء، مطالعہ حافظ، ٨٧ )